طرابلس ، 22/ اگست (آئی این ایس انڈیا) لیبیا پر قابض حریف حکومتوں نے جمعہ کے روز اپنے الگ الگ بیانات میں فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے اور جلد ہی قومی سطح پر انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ان اعلانات پر طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اتحادی حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ملک کے مشرقی حصے پر قابض کمانڈر خلیفہ حفتر عبدالرحمن کی پارلیمنٹ کے سپیکر عقیلہ صالح نے دستخط کیے ہیں۔
دونوں فریق سراج کی حکومت کے قیام کے بعد سے دسمبر 2015 سے عملی طور پر حالت جنگ میں رہے ہیں۔لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کی اعلی سفارت کار سٹیفنی ولیمز نے اس اعلان کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیے۔مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے بھی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔دارالحکومت طرابلس سے وزیر اعظم فائز السراج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لیبیا میں فوری طور پر لڑائی بند کر دے اور جنگی آپریشنز روک دے۔دوسری جانب کمانڈر خلیفہ حفتر عبدالرحمن کی فورسز کے زیرِ انتظام علاقوں کی پارلیمان کے اسپیکر عقیلہ صالح عیسیٰ نے بھی جنگ بندی کرنے کا کہا ہے۔اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت جی این اے اور فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی فورسز ایل این اے، دونوں نے ایک دوسرے سے تیل کی برآمد پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔طرابلس میں قائم جی این اے حکومت نے آئندہ برس مارچ میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔تیل کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ملک لیبیا 2011 میں سابق فوجی حکمران معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔